انداز بیان

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے وقت سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے خبر کیا کرتے جب ستارے ہی نہیں مل پائے لے کر ہم شمس و قمر کیا کرتے وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کر

انداز بیان

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں سرِ محفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتاہوں ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے شام سے پہلے پہلے نو گرفتارِ وفا سعئی رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام

آئینہ اب جدا نہیں کرتا

آئینہ اب جدا نہیں کرتا قید میں ہوں رہا نہیں کرتا مستقل صبر میں ہے کوہِ گراں نقشِ عبرت سدا نہیں کرتا رنگِ محفل بدلتا رہتا ہے رنگ کوئی وفا نہیں کرتا عیشِ دنیا کی جستجو مت کر یہ دفینہ ملا نہیں کرتا

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے مگر جینے کی صورت تو رہی ہے میں کیوں پھرتا ہو تنہا مارا مارا یہ بستی چین سے کیوں سر رہی ہے چلے دل سے امیدوں کے مسافر یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے نہ سمجھو تم اسے شورِ بہاراں